سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون تھیں؟ وزارت خارجہ اور وزیر دفاع کی وضاحت

0
126
سلامتی کونسل میں خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون تھیں؟ وزارت خارجہ اور وزیر دفاع کی وضاحت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی ایک خاتون کی موجودگی پر سوشل میڈیا پر سوالات اور تنقید کا طوفان برپا ہو گیا ہے۔ وائرل ہونے والی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیر دفاع فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف بیان کر رہے تھے، تو ایک نا معلوم خاتون ان کے بالکل پیچھے براجمان تھیں، جن کی شناخت اور حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے وائرل ہوتے ہی صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ متعدد صارفین نے سوال کیا کہ وہ خاتون کون تھیں، اور کس حیثیت سے وہ پاکستان کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر دفاع کے عقب میں موجود تھیں؟ کچھ حلقوں نے اس پر شفافیت کا مطالبہ کیا، جب کہ کچھ افراد نے اس پر شدید تنقید کی کہ ایک غیر متعلقہ فرد کو اتنے حساس فورم پر کس بنیاد پر جگہ دی گئی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

“وزیراعظم پاکستان کی مصروفیت کے باعث میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ میرے پیچھے کون بیٹھا ہے یا بیٹھے گا، یہ فیصلہ دفتر خارجہ کی صوابدید ہے۔”

“فلسطین کے ساتھ میرا تعلق صرف سفارتی نہیں بلکہ ذاتی اور جذباتی ہے۔ ابو ظہبی بینک میں ملازمت کے دوران میرے قریبی فلسطینی دوست بنے، جن سے آج بھی رابطہ ہے۔ اسرائیل اور صیہونیت سے متعلق میرے مؤقف میں کبھی ابہام نہیں رہا۔”

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان کے فلسطین سے متعلق خیالات ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تاریخ سے واضح ہیں، اور ان کے لیے فلسطین کی حمایت ایمان کا حصہ ہے۔ البتہ، خاتون کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ:

> “یہ خاتون کون ہیں، وفد میں کیوں شامل تھیں، اور میرے پیچھے کیوں بیٹھیں، ان تمام سوالات کا جواب دفتر خارجہ ہی دے سکتا ہے۔ میرے لیے مناسب نہیں کہ ان کے اختیارات میں مداخلت کروں۔”

معاملے کی سنگینی اور عوامی دباؤ کو دیکھتے ہوئے وزارت خارجہ نے بھی ایک باضابطہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا:

> “یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جس خاتون کی موجودگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے لیے پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں تھیں جس کی منظوری نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دی تھی۔”

> “نہ ہی وزیر دفاع نے ان کی موجودگی کی منظوری دی، اور نہ ہی دفتر خارجہ نے انہیں پاکستان کے وفد میں شامل کیا۔ ان کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت اور وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھنے کا کوئی باقاعدہ جواز یا منظوری موجود نہیں۔”

اس واقعے نے اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر پاکستانی وفد کی جانب سے سیکیورٹی، پروٹوکول اور نمائندگی کے اصولوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایسے اجلاسوں میں صرف وہی افراد شریک ہو سکتے ہیں جن کی پیشگی منظوری اور تصدیق موجود ہو۔ کسی غیر متعلقہ فرد کی اس سطح پر موجودگی ادارہ جاتی سقم کی نشاندہی کرتی ہے۔

تاحال کسی حکومتی سطح پر اس واقعے کی انکوائری یا تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا کی سرگرمی کے باعث اس معاملے کو نظر انداز کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

Leave a reply