سانحہ راڑہ شم کیخلاف ٹرانسپورٹرز کا احتجاج جاری

ہاٹ لائن نیوز : بلوچستان کے ضلع موسی خیل کے علاقے راڑہ شم میں دہشت گردی کے واقعے کیخلاف یونین ٹرانسپورٹ نے بلوچستان اور پنجاب کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر احتجاج کیا جس کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
واضح رہے کہ دہشت گردوں نے راڑہ شم کے مقام پر ٹرکوں اور مسافر بسوں سے اتار کر شناخت کرنے کے بعد 23 مسافروں کو گولی مار کر ہلاک اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔
یونین ٹرانسپورٹ کا گزشتہ 4 گھنٹے سے احتجاج جاری ہے، مرکزی شاہراہ پر ٹریفک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور دونوں اطراف سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جس کیوجہ سےمسافروں کو شدید پریشانی کاسامنا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آئے روز بے گناہ مزدور اور ڈرائیور مارے جا رہے ہیں۔ گزشتہ رات بسوں، ٹرکوں اور ٹرکوں سے مسافروں اور ڈرائیوروں کو اٹھا کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ قتل کے بعد تمام گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ، حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، حکومت ہمارے نقصان کا ازالہ کرے اور اہم شاہراہوں پر امن و امان قائم کر کے ہمارے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ظلم و بربریت ختم نہیں ہوتی اس وقت تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے اور اپنے احتجاجی دائرہ کو بھی وسیع کریں گے اور بلوچستان بھر کی سڑکوں پر احتجاجی دھرنے دینگے۔









