زیر حراست تشدد، اموات، اور عصمت دری کے تمام مقدمات کے مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا بڑا حکم

0
187
زیر حراست تشدد، اموات، اور عصمت دری کے تمام مقدمات کے مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا بڑا حکم

لاہور ہائیکورٹ
زیر حراست تشدد، اموات، اور عصمت دری کے تمام مقدمات ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا

ثریا بی بی نے درخواست دائر کی جس پر عدالت کی معاونت میاں علی حیدر ایڈووکیٹ نے کی

حراستی موت اور تشدد کی روک تھام ایکٹ 2022 کے فوری نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے،فیصلہ
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) اس ایکٹ سے متعلق تحقیقات پر خصوصی دائرہ اختیار رکھتی ہے،فیصلہ

پولیس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان معاملات میں ملوث ہونے سے گریز کریں،فیصلہ
اعتراف جرم یا ثبوت حاصل کرنے کے مقصد سے کسی ملزم پر کسی بھی قسم کا تشدد کرنا سختی سے ممنوع ہے،فیصلہ

ایکٹ 2022 کے نفاذ کے معاملے کو باضابطہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی توجہ میں لایا جائے،فیصلہ
یہ مسئلہ وفاقی سیکرٹری وزارت داخلہ کے ذریعے وفاقی وزیر، وزارت داخلہ، حکومت پاکستان کو بھی پیش کیا جائے،فیصلہ
2022 کے ایکٹ پر تیزی سے مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں،عمل درآمد میں مزید تاخیر کو روکنا ہے،فیصلہ

فیصلے کی ایک نقل نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرپرسن اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھیجا جائے،فیصلہ
پولیس حراست میں تشدد، موت، یا عصمت دری سے متعلق شکایت فوری طور پر ایجنسی کو بھیج دیا جائے،فیصلہ

Leave a reply