زمین کی تیز رفتار گردش، مگر انسانی حواس بے خبر

0
31
زمین کی تیز رفتار گردش، مگر انسانی حواس بے خبر

ہم روزانہ زمین پر چلتے، کام کرتے اور سوتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی یہ سوچیں کہ ہمارا سیارہ خود تیزی سے گھوم رہا ہے۔ زمین تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گردش کرتی ہے، جو بعض جنگی جہازوں سے بھی زیادہ ہے۔ حیرت انگیز طور پر، یہ رفتار ہمارے لیے بالکل محسوس نہیں ہوتی۔
زمین کی گردش اتنی ہموار اور مستقل ہے کہ ہر چیز—انسان، عمارتیں، سمندر، اور فضا—اسی رفتار سے حرکت کر رہی ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہمیں کوئی جھٹکا یا ہوا کے جھونکے محسوس نہیں ہوتے، بالکل ویسے ہی جیسے ہموار رفتار سے چلتی ریل گاڑی میں بیٹھ کر انسان حرکت کا احساس نہیں کرتا۔
کششِ ثقل یا گریویٹی اس تیز رفتاری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ہر چیز کو زمین کے مرکز کی طرف کھینچتی ہے، جس سے ہم زمین پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ زمین کی گردش سے خط استوا پر انسان کا وزن معمولی حد تک کم ہوتا ہے، مگر یہ فرق اتنا معمولی ہے کہ انسانی جسم اسے محسوس نہیں کر سکتا۔
انسانی جسم تیز رفتاری کو نہیں بلکہ رفتار میں تبدیلی کو محسوس کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہموار حرکت پر ہمیں کوئی جھٹکا محسوس نہیں ہوتا، مگر اچانک مڑنے یا رفتار بدلنے پر احساس پیدا ہوتا ہے۔
اگرچہ ہم زمین کی حرکت براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے، لیکن اس کے کچھ واضح ثبوت موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، شمالی اور جنوبی نصف کرہ میں سمندری طوفان مختلف سمتوں میں گھومتے ہیں، اور آزاد لٹکتے ہوئے پنڈولم کی سمت وقت کے ساتھ بدلتی ہے۔ ہوائی جہاز کے پائلٹ اور میزائل سسٹمز بھی زمین کی گردش کو مدنظر رکھتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین تقریباً ساڑھے چار ارب سال سے اسی طرح مسلسل گھوم رہی ہے، اور یہ گردش اتنی ہموار اور متوازن ہے کہ ہم انسان اس حرکت کو براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود، حقیقت میں ہم ایک انتہائی تیز رفتار سفر پر ہیں، جو دن رات اور موسم کی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔

Leave a reply