ریاض میٹرو: سعودی عرب کا جدید، خودکار اور دلکش ٹرانسپورٹ سسٹم

0
199
ریاض میٹرو: سعودی عرب کا جدید، خودکار اور دلکش ٹرانسپورٹ سسٹم

ریاض — سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا گیا جدید میٹرو سسٹم نہ صرف خلیجی خطے بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ دسمبر 2024 میں عوام کے لیے کھولا گیا یہ خودکار میٹرو نیٹ ورک اپنی نوعیت کا سب سے طویل ڈرائیور لیس سسٹم ہے، جس پر 22 ارب ڈالرز سے زائد لاگت آئی ہے۔

ریاض میٹرو چھ لائنوں پر مشتمل ہے، جن کا مجموعی پھیلاؤ 176 کلومیٹر ہے اور اس کے تحت 85 جدید اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ منصوبے کا مقصد نہ صرف مقامی شہریوں کے سفر کو آسان بنانا ہے بلکہ 2030 میں ورلڈ ایکسپو اور 2034 میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے لیے آنے والے لاکھوں سیاحوں کو بھی معیاری سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔

تعمیراتی حسن اور تکنیکی مہارت کا امتزاج

اس میٹرو منصوبے کے کئی اسٹیشنز نہایت دلکش اور فنِ تعمیر کا شاہکار قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان میں قصر الحکم اسٹیشن نمایاں ہے، جسے ناروے کی فرم Snøhetta نے ONEWORKS + CREW کے اشتراک سے ڈیزائن کیا ہے۔ یہ اسٹیشن 22 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور 40 میٹر زمین کے نیچے تک تعمیر کیا گیا ہے۔ سات منزلہ یہ عمارت 17 لفٹوں اور 46 ایکسیلیٹرز سے لیس ہے، جبکہ اندرونی حصے میں دکانیں، سرسبز گارڈن اور فنون لطیفہ کے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اسی طرح، کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ اسٹیشن کو بین الاقوامی شہرت یافتہ زاہا حدید آرکیٹیکٹس نے ڈیزائن کیا ہے، جو تین میٹرو لائنوں، ایک مونو ریل اور ایک بس ٹرمینل کا مرکز ہے۔ دیگر نمایاں اسٹیشنز میں ویسٹرن اسٹیشن اور ایس ٹی سی اسٹیشن شامل ہیں، ۔

ماحول دوست اور بجٹ میں

یہ میٹرو سسٹم ماحول دوست توانائی پر زور دیتا ہے۔ اسٹیشنز پر سولر پینلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ ٹرینوں میں توانائی کی بچت کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

کرایہ بھی انتہائی معقول ہے:

4 ریال میں دو گھنٹے کا ٹریول پاس

20 ریال میں تین دن کا لامحدود سفر

140 ریال میں ایک ماہ تک ان لمیٹڈ سفر

سہولت اور تحفظ

ریاض میٹرو میں تین اقسام کی بوگیاں موجود ہیں:

مردوں کے لیے مخصوص

خاندانوں کے لیے

فرسٹ کلاس سروس

ٹرینوں میں کھانے پینے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ صفائی اور نظم برقرار رکھا جا سکے۔ ان بوگیوں کو ایک فرانسیسی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے اور ان کا اندرونی حسن ریاض کے روایتی طرز تعمیر کی جھلک دیتا ہے۔

کامیاب آغاز اور روشن مستقبل

عوامی افتتاح کے ابتدائی 11 ہفتوں میں اس میٹرو سسٹم سے 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد نے سفر کیا، اور اب تک یہ تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس زبردست ردعمل کے بعد اب ساتویں لائن کی منصوبہ بندی بھی شروع ہو چکی ہے۔

ریاض میٹرو نہ صرف شہر کی ترقی کی علامت ہے بلکہ یہ سعودی عرب کے وژن 2030 کی جانب ایک عملی قدم بھی ہے، جس کا مقصد شہری سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔

Leave a reply