
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس تنصیبات پر حملوں کے واقعات کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ پنجاب اور راولپنڈی میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق پشاور کے تھانہ متنی اور تھانہ بڈھ بیر، بنوں کے علاقے کنگر، کاشو پل اور ضلع خیبر کی تکیہ پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے دستی بموں اور مختلف ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آوروں کو پسپا کر دیا گیا۔ ان واقعات میں دو پولیس اہلکار اور چھ شہری زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے باوجود سیکیورٹی ادارے مستعد ہیں اور امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب جہلم میں حساس اداروں اور پولیس نے مشترکہ سرچ آپریشن کیا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران چار افغان باشندوں سمیت 39 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ افغان شہریوں کو ہولڈنگ کیمپس منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بعض افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانیکے لیے کیے جا رہے ہیں۔
رمضان المبارک کے موقع پر محکمہ داخلہ پنجاب نے سیکیورٹی گائیڈ لائنز بھی جاری کر دی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں جامع سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ حساس مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کو خصوصی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر نفری میں اضافہ کیا جائے گا۔
راولپنڈی میں سی پی او کی ہدایات پر شہر بھر میں جوائنٹ اور اسپیشل پکٹس قائم کر دی گئی ہیں۔ بین الصوبائی شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سنیپ چیکنگ جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ اڈوں اور مسافر گاڑیوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ایلیٹ فورس اور دیگر پولیس یونٹس شہر میں گشت کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔









