ذیابطیس: ایک خاموش قاتل جس کا مریض کو علم نہیں ہوتا

0
130
ذیابطیس: ایک خاموش قاتل جس کا مریض کو علم نہیں ہوتا

ذیابطیس ایک ایسی بیماری ہے جو خون میں شکر کی سطح کے بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اس کے مریضوں کو ابتدائی طور پر اس کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ اس کے آغاز میں علامات زیادہ واضح نہیں ہوتیں۔ اکثر افراد کو اس بات کا علم تب ہوتا ہے جب بیماری زیادہ پھیل چکی ہوتی ہے یا اس کے پیچیدہ اثرات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کی ابتدائی علامات میں تھکاوٹ، زیادہ پیاس لگنا، زیادہ پیشاب آنا، اور وزن میں کمی شامل ہو سکتی ہیں، مگر یہ علامات عام طور پر کسی اور بیماری کے آثار بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے مریض انہیں اہمیت نہیں دیتے۔

اس بات کا انکشاف اس وقت ہوتا ہے جب خون میں شکر کی سطح میں اضافہ سنگین شکل اختیار کر جاتا ہے اور اس کے اثرات دل، گردے، آنکھوں اور اعصاب پر پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر ذیابطیس کی جلد تشخیص نہ ہو، تو یہ بیماری مریض کی صحت کے لیے مزید خطرات پیدا کرتی ہے، جیسے دل کی بیماری، گردوں کی خرابی، نظر کی کمزوری، اور اعصابی مسائل۔ اس کے علاوہ، ذیابطیس کا علاج نہ ہونے کی صورت میں دیگر پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں جیسے انفیکشن، زخم کا ٹھیک نہ ہونا، اور بلڈ پریشر کا بڑھنا۔

مریض کو ذیابطیس کا علم نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے افراد اس کی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، یا ان کے لیے یہ علامات اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ اسی لیے ذیابطیس کی تشخیص کے لیے باقاعدگی سے خون کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ کی فیملی میں ذیابطیس کے مریض ہوں یا آپ کا وزن زیادہ ہو، آپ زیادہ عمر کے ہوں، یا آپ کا طرز زندگی غیر فعال ہو۔

اگر آپ ذیابطیس کے خطرے میں ہیں تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے خون میں شوگر کی سطح کا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بیماری کی ابتدائی حالت میں ہی اس کا علاج شروع کیا جا سکے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

Leave a reply