ذبیح اللہ کا بڑا دعویٰ یا نفسیاتی جنگ؟ 58 شہادتوں کی خبر، ثبوت کہاں؟

0
113
ذبیح اللہ کا بڑا دعویٰ یا نفسیاتی جنگ؟ 58 شہادتوں کی خبر، ثبوت کہاں؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں افغان فورسز نے پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف جوابی کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئیں، جن میں مبینہ طور پر افغانستان کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ طالبان حکومت کے مطابق جوابی کارروائیاں کنڑ، ہلمند اور دیگر سرحدی علاقوں میں کی گئیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران افغان فورسز نے متعدد پاکستانی چوکیاں تباہ کیں اور کچھ اسلحہ عارضی طور پر قبضے میں لیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جھڑپوں میں نو افغان اہلکار بھی ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔

طالبان ترجمان کے مطابق قطر اور سعودی عرب کی درخواست پر رات 12 بجے کے بعد کارروائیاں روک دی گئیں۔

طالبان کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ داعش خراسان گروہ کو افغانستان سے نکالے جانے کے بعد اب پاکستان کے خیبرپختونخوا میں پناہ دی گئی ہے، جہاں مبینہ طور پر ان کے تربیتی مراکز موجود ہیں۔

پاکستان کی جانب سے طالبان کے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا ہے اور متعدد افغان چوکیاں بھی نشانے پر آئی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور سفارتی روابط کی بحالی اس وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

Leave a reply