دن میں رات! دنیا صدی کے طویل ترین سورج گرہن کی گواہ بنے گی

0
136
دن میں رات! دنیا صدی کے طویل ترین سورج گرہن کی گواہ بنے گی

دنیا بھر میں فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اور ماہرین ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعے کے منتظر ہیں، جب 2 اگست 2027 کو موجودہ صدی کا سب سے طویل مکمل سورج گرہن وقوع پذیر ہوگا۔ اس موقع پر زمین، چاند اور سورج ایسی خاص ترتیب میں ہوں گے کہ چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا اور کئی علاقوں میں دن کے وقت رات جیسی تاریکی چھا جائے گی۔

ماہرین فلکیات کے مطابق، اس گرہن کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا دورانیہ ہے۔ مصر کے تاریخی شہر لکسر کے قریب مکمل گرہن تقریباً 6 منٹ اور 23 سیکنڈ تک جاری رہے گا، جو اکیسویں صدی میں کسی بھی زمینی مقام پر سب سے طویل دورانیہ تصور کیا جا رہا ہے۔

مکمل سورج گرہن کی پٹی جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں سے گزرے گی۔ ان علاقوں میں اسپین کے کچھ خطے، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ شامل ہیں۔ گرہن کا آغاز بحرِ اوقیانوس میں مشرقی امریکا کے قریب ہوگا اور یہ تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک پھیل جائے گا۔

مکمل گرہن کے دوران ماحول میں اچانک روشنی کم ہو جائے گی، جیسے سورج غروب ہونے سے کچھ لمحے قبل کا منظر ہوتا ہے۔ اس دوران پرندے گھونسلوں کی طرف لوٹ سکتے ہیں، جانور غیر معمولی طور پر خاموش ہو سکتے ہیں اور دن کے وقت آسمان پر ستارے اور سیارے دکھائی دینے لگیں گے۔ اس کے ساتھ سورج کا بیرونی حصہ، جسے کرونہ کہا جاتا ہے، چاند کے گرد روشن ہالے کی شکل میں نظر آئے گا۔

سائنسدان اس گرہن کو تحقیق کے لیے نہایت اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس دوران شمسی فضا، روشنی کی شدت اور درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ اور مطالعہ ممکن ہوگا۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بیشتر علاقوں میں اس دن مکمل نہیں بلکہ جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا، جس میں سورج کا کچھ حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور روشنی میں معمولی کمی محسوس ہوگی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج کو براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ نقصان دہ شعاعیں بینائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف آئی ایس او سے منظور شدہ سولر ویونگ چشمے استعمال کیے جائیں، جبکہ عام دھوپ کے چشمے یا شیشہ ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔

یہ سورج گرہن اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس نوعیت کا اگلا طویل مکمل سورج گرہن تقریباً 17 سال بعد، یعنی 2044 میں متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منظر عام لوگوں کے لیے ایک یادگار تجربہ اور سائنس کے لیے قیمتی موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply