دل کے درد کی دوا سے ہو سکتا ہے دل کا نقصان؟ ماہرِ امراضِ قلب کا چونکا دینے والا انکشاف

0
132
دل کے درد کی دوا سے ہو سکتا ہے دل کا نقصان؟ ماہرِ امراضِ قلب کا چونکا دینے والا انکشاف

جدید دور میں علاج کی سہولیات اور آگاہی مہمات کے باوجود، دل کی بیماریوں سے متعلق کئی ایسی غلط فہمیاں عام ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ امراضِ قلب، ڈاکٹر ایون لیوین نے حال ہی میں عوام کو ان گمراہ کن تصورات سے خبردار کیا ہے۔

اپنے 30 سالہ تجربے کی روشنی میں ڈاکٹر لیوین نے دل کی صحت کے حوالے سے پانچ عام مگر سائنسی لحاظ سے ناقابلِ قبول عقائد کی نشاندہی کی ہے:

روزانہ اسپرین لینا: ہر کسی کے لیے فائدہ مند نہیں

ڈاکٹر لیوین کے مطابق، دل کے مریض نہ ہونے والے افراد خصوصاً 70 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے روزانہ اسپرین لینا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اندرونی خون بہنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

وٹامن ڈی سپلیمنٹس: دل کی بیماری سے تحفظ نہیں دیتے

اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور دل کی بیماری کے درمیان کچھ تعلق پایا گیا ہے، لیکن تحقیق سے ثابت نہیں ہوا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس دل کے حملوں کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی گمی سپلیمنٹس میں شامل چینی اور دیگر نقصان دہ اجزاء سے بھی خبردار کیا، جو دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

130 بلڈ پریشر محفوظ نہیں

ماضی میں 130 mmHg سسٹالک بلڈ پریشر کو نارمل سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید تحقیق (SPRINT اسٹڈی) کے مطابق، زیادہ تر بالغ افراد کے لیے مثالی حد 120 یا اس سے کم ہونی چاہیے۔

کو اینزائم Q10 سپلیمنٹس: فائدہ سائنسی طور پر ثابت نہیں

دل کے لیے مفید سمجھے جانے والے CoQ10 سپلیمنٹس کے بارے میں ڈاکٹر لیوین کا کہنا ہے کہ ان کے اثرات حقیقی کم اور ’پلیسبو‘ یعنی صرف ذہنی اطمینان پر مبنی زیادہ ہیں۔

بلند ایل ڈی ایل کولیسٹرول ہمیشہ خوراک کی وجہ سے نہیں

کئی افراد میں ’خراب کولیسٹرول‘ جینیاتی وجوہات سے بڑھتا ہے، جس کا تعلق صرف خوراک سے نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کو باقاعدہ دواؤں کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ دل کے دورے یا فالج کا خطرہ کم ہو۔

صحت مند دل کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
متوازن اور قدرتی غذا اپنائیں
روزانہ کچھ نہ کچھ جسمانی سرگرمی کریں
بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح چیک کراتے رہیں
سوشل میڈیا کے غیر مستند مشوروں سے پرہیز کریں
کسی بھی سپلیمنٹ یا دوا سے قبل ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کریں

Leave a reply