
ایک حالیہ بین الاقوامی تحقیق میں ماہرین نے دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیل جیسے سنگین مسائل سے پہلے نمودار ہونے والی چار بنیادی علامات کی نشاندہی کی ہے، جو ان بیماریوں کے خطرے کی پیشگی علامت سمجھی جا سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، تقریباً 99.6 فیصد مریضوں میں دل کی بیماری لاحق ہونے سے پہلے ان میں سے کم از کم ایک علامت موجود تھی۔
یہ تحقیق امریکی اور جنوبی کوریائی ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس میں جنوبی کوریا کے 93 لاکھ سے زائد افراد اور امریکہ کے 6 ہزار 800 سے زیادہ بالغ افراد کے طبی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔
شناخت شدہ چار بنیادی خطرے کے عوامل:
1. ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون)
2. خون میں کولیسٹرول کی زیادتی
3. شوگر کی بلند سطح
4. سگریٹ نوشی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل دل کی بیماریوں سے پہلے نمایاں طور پر ظاہر ہوتے ہیں اور اگر ان پر بروقت قابو پا لیا جائے تو سنگین نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر فلپ گرین لینڈ کے مطابق:
“اب ضروری ہے کہ ہم ان قابلِ علاج عوامل کو کنٹرول کرنے پر توجہ دیں، بجائے اس کے کہ مزید پیچیدہ وجوہات تلاش کرتے رہیں۔”
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اکثر مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے سے برسوں پہلے ہی ان علامات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے، اگر طبی معائنہ باقاعدگی سے کیا جائے۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، شوگر اور تمباکو نوشی جیسے عناصر کو معمول کے مطابق چیک کرتے رہیں، صحت بخش غذا اپنائیں، ورزش کو معمول بنائیں اور نقصان دہ عادات سے دور رہیں تاکہ دل کی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔









