خلیجی ممالک میں فضائی دفاعی نظام کی نئی تلاش، عالمی اسلحہ مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ

0
18
خلیجی ممالک میں فضائی دفاعی نظام کی نئی تلاش، عالمی اسلحہ مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری فضائی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئے ذرائع کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات اب روایتی طور پر امریکی اسلحے پر مکمل انحصار کے بجائے جنوبی کوریا، برطانیہ، جاپان اور یوکرین جیسے ممالک کے دفاعی نظام اور جدید ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک خاص طور پر کم لاگت والے ڈرون حملوں اور میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے ایسے جدید نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تیز ردعمل اور مؤثر دفاع فراہم کر سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے میزائل ڈیفنس سسٹم سمیت مختلف اینٹی ڈرون ٹیکنالوجیز پر بات چیت جاری ہے، جبکہ یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔
اسی طرح برطانیہ کی کچھ دفاعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے بھی رابطے کیے گئے ہیں جو نسبتاً کم قیمت دفاعی حل تیار کر رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد عالمی اسلحہ ساز صنعت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑے دفاعی معاہدے تو موجود ہیں، تاہم ان کی مکمل فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس کے باعث خلیجی ممالک متبادل شراکت داروں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ساتھ ہی اپنی دفاعی صلاحیت کو متنوع بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

Leave a reply