لاہور ہائیکورٹ میں خفیہ ایجنسی کو حکومت کی جانب سےفون کالز ٹیپ کرنے کے اختیار کیخلاف درخواست کوعدالت نے لارجر بنچ کےپاس مقرر کرنے کی سفارش کرتے ہوئے درخواست مزید سماعت کےلئے چیف جسٹس کو واپس ارسال کردی۔
جسٹس فاروق حیدر نے درخواست پرسماعت کی عدالت نے اسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کی ہدائت کردی جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نےدلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت کا فون کالز ٹیپ کرنے کی اجازت دیناآئین اور عدالتی فیصلے کے منافی ہےکسی کا فون ٹیپ کرنے کیلئے عدالتی اجازت کی ضرورت ہے
اس کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتاحکومت کے پاس ایسا اختیار نہیں وہ فون کالز ٹیپ کرنے کی اجازت دے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ فون کالز ٹیپ کرنے کی اجازت کو کالعدم قرار دیا جائے جس پر عدالت نے درخواست کو لارجر بنچ کے پاس مقرر کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی۔









