جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ممکنہ طور پر کائنات کے اولین ستاروں کے آثار دریافت کرلیے

0
121
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ممکنہ طور پر کائنات کے اولین ستاروں کے آثار دریافت کرلیے

ماہرینِ فلکیات نے ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایسی کہکشاں کا سراغ لگایا ہے جس میں ممکنہ طور پر کائنات کے بالکل ابتدائی دور میں وجود میں آنے والے ستارے موجود ہوسکتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق، جو The Astrophysical Journal Letters میں شائع ہوئی ہے، اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ دریافت شدہ ستارے شاید بگ بینگ کے فوراً بعد بننے والی پہلی نسل کے ستارے ہوں، جنہیں سائنسی زبان میں پاپولیشن تھری (Population III) کہا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ آثار LAP1–B نامی کہکشاں میں دیکھے گئے، جو زمین سے تقریباً 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ جیمز ویب نے اپنی طاقتور انفرا ریڈ صلاحیتوں کے ذریعے ان ستاروں کی انتہائی قدیم الٹرا وائلٹ روشنی کو ریکارڈ کیا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس آبادی کے ستارے ممکنہ طور پر سورج سے سو گنا زیادہ بڑے تھے اور ان کا زیادہ تر حصہ صرف ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل تھا—وہی عناصر جو بگ بینگ کے دوران وجود میں آئے تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ LAP1–B کہکشاں کی یہ خصوصیات اُن تمام نظریاتی ماڈلز سے میل کھاتی ہیں جن میں کائنات کی اولین نسل کے ستاروں کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ اگر یہ دریافت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف اولین ستاروں کی نوعیت سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ یہ بھی واضح کرے گی کہ کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کس طرح تشکیل پائیں۔

یہ کہکشاں گریویٹیشنل لینسنگ کے عمل کے ذریعے شناخت کی گئی، جس میں طاقتور ثقلی میدان دور دراز موجود روشنی کو موڑ کر اس کے مشاہدے کو ممکن بناتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت کائنات کے ابتدائی نظاموں کی بہتر تفہیم کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اب تحقیقاتی ٹیم اس بات پر کام کرے گی کہ کس طرح پہلی نسل کے ستارے بتدریج دوسری نسل یعنی پاپولیشن ٹو ستاروں میں تبدیل ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تلاش صرف آغاز ہے اور مزید مشاہدات مستقبل میں اس سلسلے کو مزید واضح کریں گے۔

Leave a reply