جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: نیب نے بااثر ملزمان کے بیرون ملک فرار روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیسز میں ملوث بااثر شخصیات کے ممکنہ بیرونِ ملک فرار پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ نیب نے درخواست کی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری عمل درآمد روکا جائے، جس میں ایک اہم ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا گیا تھا۔
نیب کے مطابق، سندھ ہائی کورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے متعلقہ ملزم کو ریلیف دیا اور آئندہ بغیر اجازت ای سی ایل یا دیگر سفری پابندیوں کی فہرستوں میں شامل نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔ بیورو نے مؤقف اپنایا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے 2019ء کے فیصلے سے متصادم ہے، جس میں جعلی اکاؤنٹس کیس کے تمام ملزمان پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد روکنے کا حکم نہ دیا گیا تو کئی ملزمان ملک سے فرار ہو سکتے ہیں، جس سے تحقیقات اور احتساب کا عمل شدید متاثر ہوگا۔
نیب نے عدالت سے یہ بھی استفسار کیا ہے کہ جب مقدمہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے، تو سندھ ہائی کورٹ کیسے علاقائی دائرہ اختیار کا دعویٰ کر سکتی ہے؟ بیورو نے سندھ ہائی کورٹ کی جلد بازی پر بھی تحفظات ظاہر کیے، جہاں نوٹس ملنے کے اگلے روز ہی سماعت کرکے فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
نیب نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ کیس سے جڑے تمام اہم شواہد اور کارروائیاں متاثر نہ ہوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے افراد ملک چھوڑنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔









