
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل رہی ہے، جبکہ اس کے محفوظ اور قابلِ اعتماد استعمال کے لیے درکار علم اور نظام اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر پا رہے۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ معاشرے، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
تحقیق اور تجزیہ کے شعبوں میں جدید اے آئی نظام اب وہ کام انجام دے رہے ہیں جو پہلے صرف ماہر انسان کر سکتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں معاشی طور پر اہم کاموں کی بڑی ذمہ داری مشینوں کے پاس چلی جائے گی۔
حکومتیں اور ادارے اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جدید نظام خودبخود درست فیصلے کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے مکمل اعتماد کے لیے ضروری سائنسی بنیاد ابھی مضبوط نہیں۔ معاشی دباؤ کے تحت نئی ٹیکنالوجی جلد استعمال میں لائی جاتی ہے، جس سے حفاظتی پہلو پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر مکمل تحفظ ممکن نہ ہو تو کم از کم نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ توانائی، مواصلات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر میں اے آئی کے استعمال کے لیے اضافی نگرانی اور کنٹرول ضروری ہے۔
برطانیہ کے اے آئی ماہرین کے مطابق، اے آئی کی صلاحیتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آئندہ پانچ برسوں میں زیادہ تر معاشی طور پر قیمتی کام مشینیں انسانوں سے بہتر اور کم لاگت میں انجام دیں گی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کو مکمل طور پر قابل اعتماد سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے اس کے نقصانات کو کم کرنے پر فوری توجہ ضروری ہے۔
آگے کے منظرنامے کے مطابق، اے آئی خود تحقیق اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے لگے گی، جس سے اس کی صلاحیتیں مزید تیز ہوں گی۔ کچھ ماہرین اسے ترقی اور نئے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے انسانی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت پر حفاظتی اقدامات اور مؤثر نگرانی کے بغیر اے آئی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے انسان بیداری اور ذمہ داری کے ساتھ اس تبدیلی کا سامنا کرے تاکہ اس کی ترقی کے فوائد حاصل ہوں اور نقصانات کم سے کم ہوں۔








