تہران میں جوہری معاہدے سے نکلنے پر ہنگامی مشاورت

0
66
تہران میں جوہری معاہدے سے نکلنے پر ہنگامی مشاورت

ایران میں جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) سے ممکنہ علیحدگی پر سنجیدہ غور جاری ہے، اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر تیزی سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس اہم اور حساس فیصلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ذریعے ہونے والی نگرانی کو محدود کرنا ہے، جسے ایران بعض بیرونی طاقتوں کی جاسوسی سے جوڑتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت کے اندر اہم حلقے این پی ٹی سے علیحدگی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ایک رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایران کے جوہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ زیرِ غور ہے، جس میں تین اہم نکات شامل ہیں: این پی ٹی سے ممکنہ علیحدگی، سابقہ جوہری معاہدے سے متعلق قوانین میں تبدیلی یا خاتمہ، اور ہم خیال ممالک کے ساتھ ایک نئے بین الاقوامی تعاون کا قیام۔
اس مجوزہ تعاون میں ایسے ممالک کی شمولیت متوقع ہے جو علاقائی اور عالمی فورمز میں ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، تاکہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا حق حاصل ہے، جبکہ مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔

Leave a reply