
راولپنڈی — پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی بیانیہ ملکی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے، اور اسے بیرونی عناصر بھی تقویت دے رہے ہیں۔ جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کو سیاست سے جوڑنے اور عوام کو فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ فوج پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ کسی لسانی، گروہی یا سیاسی نظریے کی۔ ان کے مطابق افواجِ پاکستان ہر صوبے، زبان اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہیں جو ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص شخص ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دے رہا ہے، جسے بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، خصوصاً بھارت اور افغانستان سے منسلک نیٹ ورکس، فروغ دے رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ریاست اور فوج کو کمزور کرنے والے ایسے بیانات نہ صرف آئین کے منافی ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عسکری تنصیبات پر حملے منظم انداز میں کرائے گئے اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج ڈٹ کر کھڑی ہے، جبکہ کچھ حلقے اس جدوجہد کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر سیاسی بیانیہ اور ریاستی پالیسی میں فرق واضح رکھنا ضروری ہے۔ ترجمان کے بقول بعض عناصر عوام کو سول نافرمانی پر اکساتے رہے، بیرونی قرض، ترسیلات اور ریاستی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن بیانات دیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جعلی نوٹیفکیشنز، غلط تقرریوں اور جھوٹے بیانات کے ذریعے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جسے دشمن ممالک کا میڈیا بھی نمایاں کوریج دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج بارہا اپیل کر چکی ہے کہ اسے سیاست سے دور رکھا جائے۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ مسلح افواج نے ریاست کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔









