
سرداد لطیف کھوسہ کا ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاؤس کے اجلاس سے خطاب
آج صرف وکیل کی حیثیت سے بات کرنا چاہو گا
تاریخ کبھی ایسا نہیں ہوا ک ہائیکورٹ کے اندر بکتر بند گاڑی آئے اور وکلا کو گرفتار کرے
کیا کالے کورٹ کی تکریم یہی رہ گئی ہے
کس کی جرت ہے جو وکیلوں ہر دہشتگردی کے مقدمے درج کرے
چیف جسٹس کو برطانوی ہائی کمشنر کو خط نہیں لکھنا چاہیے تھا
خدارا دنیا میں اپنا مزاق مت بنوائیں
بلے سے متعلق ہماری ریویو پٹیشن زیر التوا ہے
آپ زیر التوا کیس پر کیس۔ خط لکھ سکتے ہیں
ملک کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے
خدارا دھرتی ماں کو لوٹنا بند کردںں
اگر یہ اشرفیہ اپنی دولت پاکستان واپس لے آئے تو سارا قرضہ ختم ہوجائے گا









