بیٹیوں اور بہوؤں کے فون استعمال پر پابندی عائد

راجستھان کے ضلع جالور میں ایک دیہی پنچایت نے 15 دیہات میں خواتین اور نوجوان خواتین کے لیے کیمرہ والے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پابندی کے تحت صرف کال کرنے کے لیے سادہ کی پیڈ فون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ 26 جنوری سے نافذ ہوگا۔
پنچایت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کی آنکھوں کی صحت اور خاندانی نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کے اسمارٹ فون اکثر بچوں کی دسترس میں آ جاتے ہیں، جس سے وہ کم عمری میں موبائل کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اسکول جانے والی بچیوں کو تعلیمی ضروریات کے لیے فون کے محدود استعمال کی اجازت ہوگی، لیکن سماجی تقریبات یا دیگر گھروں میں فون لے جانے پر پابندی برقرار رہے گی۔
یہ فیصلہ مقامی سطح پر حمایت حاصل کر رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا بے جا استعمال ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اس کا حل پابندی کے بجائے آگاہی اور متوازن استعمال میں ہے۔
دنیا بھر میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کے مسائل اب سنجیدہ سماجی تشویش کا باعث بن چکے ہیں، اور کئی ممالک اسکولوں اور نوجوانوں کے لیے اس کے محدود استعمال کی پالیسیاں اپناتے جا رہے ہیں تاکہ بچے اسکرین کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں اور حقیقی دنیا سے جڑ سکیں۔









