
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اعلان کیا ہے کہ آرٹیکل 243 سے متعلق مسودہ سامنے آنے تک پارٹی کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کرے گی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 مسلح افواج سے متعلق ہے، ماضی میں بھی اس آرٹیکل میں ترامیم تجویز کی گئی تھیں، تاہم آئین میں تبدیلی صرف اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق اکثریت کی بنیاد پر یکطرفہ فیصلے کرنا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین قومی اتفاقِ رائے کی علامت ہے اور اسی کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں واضح گارنٹی دی گئی تھی کہ صوبوں کا مالی حصہ کم نہیں کیا جائے گا اور وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی واضح کیا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی کسی بھی آئینی ترمیم یا بل کو تحریک انصاف قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں۔








