بھارت کی طرف سے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی

بھارت کی طرف سے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی
بھارت نے 1 مرتبہ پھر سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کر کے مقبوضہ کشمیر میں دو نئے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام کرنا شروع کر دیا ہے، ان پروجیکٹس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ بھی ہے، انڈیا نے ان منصوبوں سے متعلق پاکستان کو پیشگی اطلاع نہیں دی ہے، جو کہ سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، سندھ طاس معاہدہ بھارت کو یک طرفہ کسی بھی ایسے اقدامات سے روکتا ہے، بھارت پہلے بھی غیر قانونی طور پر اس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کر چکا ہے، حالانکہ یہ معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں طے ہوا تھا اور اس پر کوئی بھی فریق یک طرفہ قدم نہیں اٹھایا سکتا۔








