بچوں میں بھوک کی کمی: ماہرین نے بھوک بڑھانے والی ادویات کے استعمال کو خطرناک قرار دے دیا

0
124
بچوں میں بھوک کی کمی: ماہرین نے بھوک بڑھانے والی ادویات کے استعمال کو خطرناک قرار دے دیا

بچوں میں بھوک نہ لگنا والدین کے لیے ایک عام اور پریشان کن مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ بچے جو زیادہ متحرک اور چنچل ہوتے ہیں، اکثر کھانے سے دور بھاگتے ہیں، جس کی وجہ سے والدین مختلف طریقے آزماتے ہیں۔ انہی میں سے ایک طریقہ بھوک بڑھانے والی ادویات کا سہارا لینا ہے، مگر ماہرین اس عمل کو غیر محفوظ قرار دیتے ہیں۔

بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر روی ملک گپتا کے مطابق، بھوک بڑھانے والی ادویات نہ صرف غیر مؤثر ہیں بلکہ بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس، دونوں ہی ان ادویات کے استعمال کی سختی سے مخالفت کرتی ہیں۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ اکثر بھوک بڑھانے والی دواؤں میں شامل جزو سائپروہیپٹاڈین بچوں میں متعدد منفی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس دوا کا استعمال سر درد، بے چینی، چڑچڑاپن، ذہنی الجھن، اور چکر آنے جیسے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ بچوں میں اس کے استعمال سے الرجی اور جگر کی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ بھوک بڑھانے کے لیے قدرتی اور محفوظ طریقے استعمال کیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے متنوع، رنگ برنگے اور مزیدار کھانے تیار کریں تاکہ بچے کھانے میں دلچسپی لیں۔ زبردستی کھلانے یا لالچ دے کر کھلانے کی روش سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ یہ کوششیں اکثر الٹا اثر ڈالتی ہیں۔

ڈاکٹر گپتا کی رائے میں کھانے کے دوران ٹی وی اور موبائل سے بچوں کی توجہ ہٹانی چاہیے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ کھا سکیں۔ اس کے علاوہ، پر سکون ماحول اور مناسب نیند بھی بچوں کی بھوک پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

اگر کسی بچے میں بھوک کی کمی مستقل مسئلہ بن جائے تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ طبی معائنہ وجہ کی درست تشخیص میں مدد دیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر صحیح علاج تجویز کیا جاسکتا ہے۔

Leave a reply