“برف میں چھپی لذت: وہ موجد جس نے کھانے کو ہمیشہ کے لیے فریز کر دیا”

0
47
"برف میں چھپی لذت: وہ موجد جس نے کھانے کو ہمیشہ کے لیے فریز کر دیا"

فروزن فوڈ آج ہمارے گھروں اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی ابتداء کیسے ہوئی اور اسے باقاعدہ صنعت کی شکل کس نے دی؟
آج کل زیادہ تر گھروں میں منجمد اشیائے خورونوش آسانی سے دستیاب ہیں، جو نہ صرف جلد تیار ہوتی ہیں بلکہ کھانے میں لذت بھی بڑھاتی ہیں۔ فرنچ فرائز، پیزا، چکن نگٹس، سموسے، باؤ بنز اور برگر پیٹیز جیسی اشیاء عام طور پر شام کے وقت ڈیپ فرائی یا ایئر فرائر میں پکائی جاتی ہیں، جس سے تیز رفتار زندگی میں سہولت اور ذائقہ دونوں کا امتزاج ممکن ہوتا ہے۔
لیکن خوراک کو منجمد کرنے کا تصور نیا نہیں۔ مورخین کے مطابق قدیم چینی تقریباً 3000 قبل مسیح سے سردیوں میں برف خانوں میں خوراک محفوظ کرتے تھے۔ رومی تہہ خانوں میں بھی برف کے ڈھیر جمع کر کے اشیائے خورونوش کو خراب ہونے سے بچایا جاتا تھا۔ یہ ابتدائی طریقے کھانے کی حفاظت میں مؤثر ثابت ہوئے۔
جدید فروزن فوڈز کی بنیاد امریکی موجد کلیرنس برڈز آئی نے رکھی۔ 1912 میں وہ کینیڈا کے علاقے لیبراڈور گئے، جہاں انہوں نے رہائشیوں کو شدید سردی میں تازہ مچھلی اور گوشت فوری طور پر جما کر محفوظ کرتے دیکھا۔ یہ مشاہدہ ان کے لیے انقلاب انگیز ثابت ہوا۔
واپس امریکہ آ کر برڈز آئی نے ایسا طریقہ ایجاد کیا جس میں خوراک کو انتہائی کم درجہ حرارت پر دھاتی پلیٹوں کے درمیان رکھ کر تیزی سے منجمد کیا جاتا تھا۔ اس عمل کو ”فلیش فریزنگ“ کا نام دیا گیا، جس سے کھانے کے خلیات محفوظ رہتے اور ڈیفروسٹ کے بعد بھی ذائقہ تازہ رہتا ہے۔
1924 میں برڈز آئی نے جنرل سی فوڈز کمپنی قائم کی اور پیک شدہ فروزن مصنوعات کی فروخت شروع کی۔ ابتدا میں مچھلی کے فلیٹس، گوشت، پالک اور بیریز مارکیٹ میں پیش کیے گئے۔ کمپنی نے اشتہارات کے ذریعے صارفین کو یقین دلایا کہ یہ سبزیاں اور دیگر اشیاء ایک مخصوص مدت تک تازہ رکھی جا سکتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبہ بند اور منجمد خوراک فوجیوں کے لیے تیار کی گئی، جس کے بعد عام امریکی صارفین نے فروزن فوڈ کی طرف رجحان بڑھایا۔ 1950 کی دہائی میں فِش اسٹکس اور ٹی وی ڈنرز کی آمد نے فروزن کھانوں کو امریکی طرزِ زندگی کا مستقل حصہ بنا دیا۔
آج فروزن فوڈ انڈسٹری دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی کامیاب صنعت بن چکی ہے۔ اس کے پیچھے ایک موجد کی جستجو اور آرکٹک سردیوں میں کیے گئے مشاہدے کا ہاتھ ہے، جس نے خوراک کو محفوظ کرنے کے طریقے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

Leave a reply