برطانیہ نے افغان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے اسٹڈی ویزے پر پابندی عائد کردی

0
48
برطانیہ نے افغان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے اسٹڈی ویزے پر پابندی عائد کردی

برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کے لیے اسٹڈی ویزے جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی افغان شہریوں کے لیے ورک ویزا پروگرام بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق یہ اقدام بڑھتی ہوئی پناہ کی درخواستوں کو کنٹرول کرنے کے لیے “ایمرجنسی بریک” کے طور پر کیا گیا ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان ان چار ممالک کی جانب سے برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، اور افغان ورک ویزا رکھنے والے افراد میں بھی پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد اصل ویزوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اندرونی امور کی وزیر شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ مظلوم اور جنگ سے متاثرہ افراد کو پناہ دیتا رہا ہے، لیکن ویزا سسٹم کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ہماری سخاوت کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ویزے روکنے کا غیر معمولی فیصلہ ناگزیر تھا۔”
اعداد و شمار کے مطابق قانونی ویزوں کے ذریعے برطانیہ آنے والے افراد کی پناہ کی درخواستیں 2021 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہیں، اور گزشتہ سال کی ایک لاکھ درخواستوں میں سے تقریباً 39 فیصد وہ افراد تھے جو قانونی راستے سے آئے تھے۔
حکومت کے مطابق اس وقت تقریباً 16 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر مذکورہ چار ممالک کے شہری شامل ہیں، برطانیہ میں سرکاری اخراجات پر مقیم ہیں، اور ان میں سے 6 ہزار سے زائد افراد ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ پناہ گزینوں کی رہائش پر ہونے والا یہ سالانہ خرچ تقریباً 4 ارب پاؤنڈ (5.34 ارب امریکی ڈالر) ہے۔
نئی پابندیاں 26 مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ حکومت نے بتایا ہے کہ جب موجودہ نظام مستحکم ہو جائے گا، تو پناہ کے لیے “محفوظ اور قانونی راستوں” کے تحت مخصوص کوٹے پر مبنی نیا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔
2021 سے اب تک برطانیہ نے تقریباً 37 ہزار افغان شہریوں کو پناہ دی ہے، اور گزشتہ سال انسانی بنیادوں پر تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار ویزے جاری کیے گئے۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانیہ کا امیگریشن نظام اب متوازن اور سخت معیار پر مبنی ہوگا تاکہ یورپی ممالک کی طرح “پُل فیکٹر” قوانین کے تحت غیر قانونی نقل مکانی کو روکا جا سکے۔

Leave a reply