بابا وانگا کی پیش گوئیاں ایک بار پھر زیرِ بحث، عالمی کشیدگی پر سوالات

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی نابینا پیش گو بابا وانگا کی مستقبل سے متعلق منسوب پیش گوئیاں ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ مختلف ذرائع میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق، بابا وانگا نے 2026 کے آس پاس مشرقی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کی پیش گوئی کی تھی، جس میں چین، روس، ایران اور امریکا جیسے ممالک کے ملوث ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ بعض دعوؤں کے مطابق یہ تنازع آگے چل کر عالمی سطح کی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات خاص طور پر مغربی دنیا پر شدید ہوں گے۔
ان پیش گوئیوں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگرچہ ایسی کسی جنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی، تاہم انسانیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی۔ بابا وانگا سے منسوب ایک اور بیان کے مطابق انسانی زوال کا آغاز 2025 میں ہو چکا ہے، جبکہ دنیا کے اختتام کا وقت 5079 بتایا جاتا ہے۔
ماضی میں ان سے منسوب پیش گوئیوں میں قدرتی آفات، یورپ میں عسکری تنازعات اور عالمی معاشی مسائل کا ذکر بھی سامنے آ چکا ہے، جس کی وجہ سے ان کے نام سے جڑی باتیں وقتاً فوقتاً عوامی دلچسپی کا مرکز بنتی رہتی ہیں۔
بابا وانگا 1996 میں 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں، لیکن ان کے حوالے سے منسوب پیش گوئیاں آج بھی سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں زیرِ بحث رہتی ہیں۔ بعض دعوؤں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انسانوں اور غیر زمینی مخلوق کے درمیان پہلے رابطے کی بات کی تھی، جس کے ممکنہ نتائج کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
موجودہ عالمی حالات، خصوصاً چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی اور روس و امریکا کے تعلقات کے تناظر میں بعض لوگ ان پیش گوئیوں کو حالیہ واقعات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ماہرین اس حوالے سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اسی دوران، فرانس کے معروف نجومی نوسترادامس کی صدیوں پرانی تحریریں بھی دوبارہ موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں، جن کی تشریحات کے مطابق کسی نمایاں سیاسی شخصیت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا کسی بڑے سیاسی بحران کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان تحریروں کی تعبیر ہمیشہ مختلف آرا کو جنم دیتی رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی پیش گوئیوں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے تاریخی اور ثقافتی تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔








