
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں لوگ فٹ اور صحت مند رہنے کے لیے اب مصنوعی ذہانت (AI) پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ موبائل ایپس اب چند کلکس میں کم کیلوری والی ڈائٹ، ورزش کے منصوبے اور وزن کم کرنے کے مشورے فراہم کرتی ہیں۔ لیکن کیا AI واقعی ہر فرد کے جسم، عادات اور صحت کی مکمل سمجھ رکھتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنا صرف کیلوریز کو کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ جسم اور ذہن کا ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔ AI پر مبنی ایپس عمر، وزن، قد، نیند اور روزمرہ سرگرمیوں جیسے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ذاتی نوعیت کے ڈائٹ اور ورزش کے منصوبے تجویز کرتی ہیں، لیکن یہ ہر شخص کے مزاج، پسندیدہ کھانے یا ذہنی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتیں۔
ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ AI کو مکمل طور پر ڈاکٹر کا متبادل سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہر فرد کی طبی تاریخ، ہارمونز اور جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ خاص طور پر تھائیرائیڈ، پی سی او ایس، ذیابیطس یا دل کی بیماری میں ماہر کی نگرانی ضروری ہے۔
بعض اوقات AI سخت یا بہت کم کیلوری والی ڈائٹ تجویز کر دیتا ہے، جس سے کمزوری، پٹھوں کی کمزوری اور غذائی قلت جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا پرائیویسی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ بہت سی ہیلتھ ایپس صارفین کی ذاتی معلومات جمع کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کو ڈاکٹر کے معاون کے طور پر استعمال کرنا زیادہ محفوظ ہے۔ AI آپ کی پیش رفت ٹریک کرنے، عادات سمجھنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن حتمی رہنمائی ہمیشہ ماہرین سے لینی چاہیے۔
مستقبل میں AI صحت اور میٹابولزم کو بہتر انداز میں سمجھنے اور بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، محفوظ اور مستقل وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ہی









