ایک کیس میں ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنا غیر قانونی قرار

0
599
ایک کیس میں ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنا غیر قانونی قرار

ہاٹ لائن نیوز : لاہور ہائیکورٹ نے ایک مقدمہ میں ضمانت کے بعد دوبارہ اسی مقدمہ میں نئے الزامات کے تحت گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیاہے۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ کا کہنا ہےکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، عدالت کے سامنے سوال تھا کہ کیا کسی ملزم کو عبوری ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ نئی دفعات شامل کر کےگرفتار کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے مجتبی سلیم بٹ کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ
نے فیصلہ دیا کہ اگر عدالت کسی ملزم کو بعد از گرفتاری یا قبل از گرفتاری ضمانت دے تو متعلقہ اداروں کو اسکا احترام کرنا چاہیے، ایک ہی کیس میں ملزم کو رہا ہونے کے بعد نئے الزامات کے تحت گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے، کسی بھی شخص کی آزادی کے حق کو مجروح نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تحریری حکم کے مطابق پولیس نے قانونی پروسیجر پر عملدرآمد نہ کر کےعدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، پولیس کا یہ عمل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے ساتھ ملزم کی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، مغوی کی گرفتاری غیر قانونی قرار دی جاتی ہے۔

تحریری حکم کے مطابق درخواست گزار نے اپنے بیٹے راشد حسن بٹ کی بازیابی کی درخواست دائر کی تھی ، عدالتی حکم پر مغوی کو پیش کیا گیا، تفتیشی نے بتایا کہ ملزم کو سیکشن 381 اے کے تحت شیراکورٹ پولیس نے گرفتار کیا، عدالت کے سامنے یہ نقطہ آیا کہ ملزم کی اسی مقدمہ میں عبوری ضمانت کنفرم ہوچکی ہے، پولیس نے اسی مقدمہ میں نئی دفعات کا اندارج کر کے گرفتار کیا۔

Leave a reply