
اکثر لوگ مونگ پھلی کھانے سے پہلے اس کا باریک سرخ چھلکا یہ سمجھ کر اتار دیتے ہیں کہ یہ معدے کے لیے نقصان دہ ہے، تاہم غذائی ماہرین اس خیال کو درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق مونگ پھلی کا یہی سرخ چھلکا دراصل غذائیت سے بھرپور اور صحت کے لیے نہایت مفید ہوتا ہے۔
سردیوں کے موسم میں بھنی ہوئی گرم مونگ پھلی گلی محلوں میں عام نظر آتی ہے۔ ذائقے میں لذیذ، قیمت میں سستی اور غذائیت سے بھرپور ہونے کی وجہ سے اسے اکثر ’’غریب آدمی کا بادام‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کھاتے وقت اس کے چھلکے کو الگ کرنا ایک ایسی عادت ہے جو اس کے اصل فوائد کو کم کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مونگ پھلی کے سرخ چھلکے میں قدرتی فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای، وٹامن بی 6، پولی فینولز اور فلیوونائڈز پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا جسم کو فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں، قوتِ مدافعت کو بہتر بناتے ہیں اور عمر کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
غذائی ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مونگ پھلی کو اس کی قدرتی جھلی سمیت استعمال کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ جھلی خلیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے اور جسمانی توانائی میں اضافہ کرتی ہے۔
سرخ چھلکے میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے اور قبض جیسے مسائل سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریض بھی اعتدال کے ساتھ مونگ پھلی استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مونگ پھلی صحت بخش غذا ہے، لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال گیس، اپھارے یا بدہضمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسے ہمیشہ مناسب مقدار میں کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جن افراد کو مونگ پھلی سے الرجی ہو یا معدے کے سنگین مسائل لاحق ہوں، انہیں استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
سردیوں کے موسم میں مونگ پھلی ایک مزیدار اور توانائی فراہم کرنے والا اسنیک ہے، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ جب بھی مونگ پھلی کھائیں تو اس کے سرخ چھلکے کو ضائع نہ کریں، کیونکہ اس کی اصل غذائیت اسی میں موجود ہوتی









