ایک اسٹیٹس، ایک ویڈیو… اور تہذیب زمین بوس

0
159
ایک اسٹیٹس، ایک ویڈیو… اور تہذیب زمین بوس

رات کے کسی پہر شہر سوتا ہے، مگر ایک چیز پوری طاقت سے جاگ رہی ہوتی ہے—اسکرین۔
وہی موبائل کی اسکرین، جو روشن تو کم ہے مگر زہریلی اتنی کہ ہمارے گھروں، رشتوں اور معاشرتی اقدار کو اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔
آج کا انسان جسم سے زندہ مگر ذہنی طور پر “نوٹیفیکیشن کا غلام” بن چکا ہے۔ کھانا میز پر ٹھنڈا ہو جائے تو ہو جائے، مگر انسٹا کی اسٹوری گرم رہنی چاہیے۔ گھر کے بزرگ بات کریں تو سنائی نہیں دیتا، مگر وائرل ہونے والی آوازیں دل تک اتر جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا اب محض ایک پلیٹ فارم نہیں رہا ، یہ ایک اندھا کنواں ہے۔
کچھ لوگ شہرت کے پیاسے اس میں چھلانگ لگا دیتے ہیں، کچھ مقابلے کے جنون میں، اور کچھ صرف اس لیے کہ سب ایسا کر رہے ہیں۔
پہلے ادب تھا، لحاظ تھا، آنکھ میں حیا تھی۔
اب بدزبانی ایک “ٹرینڈ”، فضول حرکات “چیلنج”، اور جھوٹی چمک “کانٹینٹ” بن چکا ہے۔
ایک ویڈیو، ایک اسٹیٹس، ایک تصویر اور انسانیت کی ساری تہذیب منٹوں میں فرش پر گرتی دکھائی دیتی ہے۔
جہاں کبھی گھر کے بڑے مشورے دیتے تھے، آج “ٹک ٹاکر فلسفی” نصیحتیں بانٹ رہے ہیں۔
جہاں کبھی کردار کی طاقت دیکھی جاتی تھی، آج فالورز کی گنتی انسان کی قیمت طے کرتی ہے۔
اور افسوس…
ہم سب یہ تماشا نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ تالیاں بھی بجا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ہمارے ذہنوں کو ایسے یرغمال بنایا ہے کہ اب محبت بھی “ری ایکشن” کی محتاج ہو گئی ہے۔
گھر میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے نہیں، بلکہ فون سے باتیں کرتے ہیں۔
بچے ماں سے مشورہ نہیں لیتے، بلکہ یوٹیوبر سے “کس طرح زندگی گزاری جائے” سیکھتے ہیں۔
اور یوں ہم آہستہ آہستہ اپنی ہی تہذیب کے قاتل بنتے جا رہے ہیں—ایک ایسا قتل جو خون کے بغیر، مگر کردار کی موت کے ساتھ ہوتا ہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہمیں سب پتا ہے
مگر ہم رکنا نہیں چاہتے!
ہم وہ نسل بن چکے ہیں جو روایات کے ماتم میں مصروف رہتی ہے اور کلچر کو اسکرول کرتے ہوئے دفن کر دیتی ہے۔
اگر ہم نہ بدلے تو آنے والی نسلیں کتابوں میں پڑھیں گی کہ
کبھی ایک قوم ہوا کرتی تھی جو تہذیب، عزت اور شرافت کے نام سے جانی جاتی تھی… پھر اسے اسکرین نے نگل لیا۔
یہ جنگ کسی اور نے نہیں لڑنی—یہ جنگ ہمیں خود اپنی اسکرینوں کے خلاف لڑنی ہے۔
ورنہ سوشل میڈیا نہیں،
ہماری اقدار ہی “آخری پوسٹ” بن کر رہ جائیں گی۔

Leave a reply