
دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو ایک ایسی ہمہ جہت ایپ میں بدلنے کے خواہشمند ہیں جس میں رابطے، ادائیگیوں اور دیگر ڈیجیٹل سہولتوں کو یکجا کیا جائے، بالکل اسی طرح جیسے چین میں وی چیٹ استعمال ہوتی ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے بتایا کہ وہ ایکس کو ایسی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں صارفین نہ صرف ایک دوسرے سے رابطہ رکھ سکیں بلکہ مالی لین دین بھی انجام دے سکیں۔ ان کے مطابق چین میں وی چیٹ روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے اور اسی ماڈل کو دنیا کے دیگر ممالک میں متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔
مسک نے 2022 میں ٹوئٹر خریدنے کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے ایکس رکھا، جبکہ مارچ 2025 میں ان کی کمپنی XAI نے اسے 33 ارب ڈالر میں اپنے ماتحت کر لیا۔ حالیہ مہینوں میں ایکس نے ویزا کے ساتھ اشتراک کے تحت امریکا کی مختلف ریاستوں میں ڈیجیٹل والٹ اور آن لائن ادائیگیوں کی سہولت کی آزمائش بھی شروع کر دی ہے، جبکہ ڈیبٹ کارڈ کے اجرا پر بھی کام جاری ہے۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایسی کوئی ایپ موجود نہیں جو رابطے، سوشل میڈیا اور ادائیگیوں کو یکجا کرے، اسی لیے وہ ایکس کو ایک مکمل سپر ایپ بنانے کے منصوبے پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔









