ایف ڈی اے میمو میں انکشاف: کووِڈ ویکسین سے بچوں میں ممکنہ ہلاکتیں

0
61
ایف ڈی اے میمو میں انکشاف: کووِڈ ویکسین سے بچوں میں ممکنہ ہلاکتیں

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے ایک خفیہ اندرونی میمو میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 10 بچوں کی موت کووِڈ 19 ویکسین کے بعد ممکنہ طور پر دل کی سوجن (Myocarditis) کی وجہ سے ہوئی۔ میمو ایف ڈی اے کے چیف میڈیکل اور سائنسی افسر وِنے پرساد نے تیار کیا، لیکن اس میں متاثرہ بچوں کی عمریں، پس منظر یا ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے نام نہیں بتائے گئے۔ میمو میں اس واقعے کو “انتہائی تشویشناک اور گہرا انکشاف” قرار دیا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق، امریکی محکمہ صحت (HHS)، جس کے تحت ایف ڈی اے کام کرتی ہے، نے اس بارے میں فوری ردِعمل نہیں دیا۔ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ہیلتھ سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کووِڈ ویکسین کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ویکسین کی رسائی صرف 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور سنگین بیماریوں کے شکار شہریوں تک محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کینیڈی جونیئر نے ویکسین اور آٹزم سمیت دیگر ممکنہ مسائل کو بھی جوڑتے ہوئے ملک کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں تبدیلیاں لانے کا عندیہ دیا ہے۔

کووِڈ وبا کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کی حکومت نے ویکسین کو “جان بچانے” کے لیے لازمی قرار دیا تھا، لیکن تازہ میمو سامنے آنے کے بعد امریکی سسٹم میں ویکسین نگرانی اور سائنسی جانچ کے عمل پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ایف ڈی اے نئے اصول متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جن میں تمام عمر کے گروپس کے لیے randomized studies لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ ویکسین کی حفاظت اور افادیت کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

Leave a reply