ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

0
42
ایران کا سعودی تنصیبات پرغیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ حملہ

آج کے حملے سے پہلے کسی ملک بشمول ااسرائیل نے سعودیہ عرب پر حملہ کرنے کے جرات نہیں کی۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پیٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودیہ عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے

ایران کا سعودیہ عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اورپیٹروکیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا ۔

سعودیہ عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی bases ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان Bases کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔

اگر کوئی ملک سعودیہ عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودیہ عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔

پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصا سعودیہ عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے

اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر کیا گیا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ایک حساس جانب گامزن ہیں۔ یہ حملہ ان سفارتی کاوشوں کو بڑی حد تک compromise کرتا ہے

پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین باہمی دفاعی معاہدہ اور اس کے مضمرات سے مکمل آگاہ ہونے کے باوجود ایران کا یہ حملہ ایرانی اور عرب ممالک کے عوام
کیلئے مشکلات پیدا کرنے اور مسلم اُمّہ مفادات سےمتصادم ہے

یہاں یہ امر بھی واضح ہے کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین دیرینہ اور تاریخی تعلقات فرقہ واریت اور کسی لسانی تفریق سے بالاتر ہیں۔ حرمین شریفین پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئیے معظم اور مقدس ہے
ـ
پاکستان سعودیہ عرب پہ ہونے والے ان حملوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتا ہے بلکہ فریقین کی طرف سے صبر وتحمل کا خواہشمند ہے

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ دو مسلمان فریقین میں سے ایک فریق زیادتی کررہا ہو تو دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اس طرح کے جارحانہ اور غیر ذمہ درانہ اقدامات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی عوام معاشی استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور توانائی کی تنصیبات پر اس طرح کے حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف ان حملوں کی مذمت کی جائے بلکہ انکو ہر صورت روکا جائے۔

Leave a reply