ایران کا امریکا کو انتباہ، اسرائیل اور امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر ہونے کا دعویٰ

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود اسرائیلی اہداف کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز اس کے ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جن میں معاشی، نفسیاتی، سکیورٹی اور عسکری محاذ شامل ہیں۔ ان کے مطابق طویل عرصے سے مختلف نوعیت کی جنگیں جاری تھیں، تاہم براہِ راست عسکری کشیدگی میں اضافہ جون 2025 میں ہوا۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں بیرونی طاقتوں نے ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عوامی احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی قوم نے مسلح گروہوں اور تشدد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ممکنہ امریکی کردار کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم اور امریکی اعلیٰ حکام کے درمیان رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ایران کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام تبدیلی کے قریب ہو سکتے ہیں اور امریکا اس عمل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران میں دسمبر کے اواخر سے مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے بعض علاقوں میں پرتشدد شکل اختیار کر چکے ہیں۔ حکام کا الزام ہے کہ ان احتجاجی سرگرمیوں کے پیچھے بیرونی عناصر سرگرم ہیں، جبکہ سڑکوں پر حکومت کے حامی اور مخالف گروہوں کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں جھڑپوں کے دوران بڑی تعداد میں افراد کے جاں بحق اور ہزاروں کی گرفتاریوں کی غیر مصدقہ خبریں سامنے آئی ہیں۔ صورتحال کے پیشِ نظر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے، جس کے باعث معلومات تک رسائی محدود ہو چکی ہے۔
ایرانی سکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ملکی دفاع، قومی مفادات اور عوامی املاک کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مبصرین کے مطابق ایران میں بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور علاقائی تناؤ کے باعث صورتحال کسی بڑے بحران کی طرف جا سکتی ہے، جبکہ خطے میں امریکا اور اسرائیل کی سرگرمیوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔









