ایران میں پھانسیوں پر ٹرمپ کی کھلی دھمکی، امریکی کارروائی کا انتباہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی صورتحال پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر زیرِ حراست مظاہرین کو سزائے موت دی گئی تو امریکا اس پر خاموش نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں واشنگٹن سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں وہاں قیام خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور امریکا جلد ہی ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار سامنے لائے گا۔ ان کے مطابق امریکا ایرانی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں امریکی صدر نے ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر تشدد کرنے والوں کو جوابدہ بنایا جائے گا اور ان کے اقدامات فراموش نہیں کیے جائیں گے۔
اسی دوران ایک اور پیغام میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ ان کے بقول جب تک ایران میں خونریزی کا سلسلہ جاری ہے، کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں ممکنہ امریکی کردار کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ مدد قریب ہے۔ انہوں نے اپنے انتخابی نعرے کے انداز پر “میک ایران گریٹ اگین” کا جملہ بھی استعمال کیا۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر ایرانی مظاہرین کی حمایت میں بیانات دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ بات چیت کا خواہاں ہے اور ایرانی قیادت نے خود رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ساتھ یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ حالات کسی کارروائی کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی تحریک گزشتہ ماہ تہران سے شروع ہوئی تھی، جو بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گئی۔ وقت کے ساتھ بعض مقامات پر مظاہرے پُرتشدد ہو گئے۔
ایرانی حکومت ان احتجاجی سرگرمیوں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کرتی ہے۔ ان الزامات کے بعد پیر کے روز ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے اجتماعات ہوئے، جہاں شرکاء نے بیرونی مداخلت کے خلاف اور ملکی قیادت کے حق میں نعرے لگائے۔









