ایران میں بازیاب پاکستانی خاتون کی وطن واپسی کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا

ایران میں بازیاب ہونے والی ایک پاکستانی خاتون نے تنہا وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اس کا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ خاتون چار ماہ کی حاملہ ہیں اور اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ سفر کرنے کی وجہ سے اکیلے وطن واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق خاتون کو ہرمزگان صوبے کے بندرعباس میں پولیس کیمپ منتقل کیا گیا ہے، اور اسے پاکستانی سفارت خانے تک مکمل رسائی حاصل ہے۔ پاکستانی حکام چاہیں تو خاتون کو وطن واپس بھیج سکتے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
خاتون نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہیں، حالانکہ اس نے پہلے ہی اس پر کچھ الزامات عائد کیے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صرف ویڈیو پیغام کی بنیاد پر کسی پر کارروائی نہیں کی جا سکتی، اور شوہر کے خلاف باضابطہ درخواست بھی ابھی تک جمع نہیں کرائی گئی۔
پاکستان میں سندھ کے گورنر نے خاتون کی بازیابی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا، اور واپسی کے لیے سفری انتظامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ تاہم خاتون نے تنہا وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔
خاتون کے اہل خانہ کے مطابق وہ تقریباً دو سال قبل لاپتا ہو گئی تھیں، اور بعد میں معلوم ہوا کہ ایران میں ایک شخص کے ساتھ ان کی زبردستی شادی کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ مالی طور پر ایران سفر کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے پاکستانی سفارت خانے کی مدد کے محتاج ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ اور ویزا کے بغیر ایران میں داخلے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور معاملہ مخصوص کمیٹی دیکھے گی۔ کمیٹی کے فیصلے تک خاتون یا تو بندرعباس پولیس کیمپ میں رہیں گی یا پاکستانی حکام کی ہدایت پر وطن واپس بھیجی جا سکتی ہیں۔









