اڈیالہ جیل: ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا دھرنا، واٹر کینن کا استعمال

0
107
اڈیالہ جیل: ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا دھرنا، واٹر کینن کا استعمال

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے ملاقات نہ ہونے پر پیدا ہونے والی کشیدگی پولیس کارروائی کے بعد ختم ہو گئی۔ ملاقات کے لیے مقرر دن پر جیل اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ دفعہ 144 نافذ ہونے کے باعث پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکے قائم تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس پر انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ جیل کے قریب احتجاج شروع کر دیا، جس دوران نعرے بازی بھی کی گئی۔
تحریک انصاف کے متعدد رہنما، جن میں وکلا اور پارٹی عہدیداران شامل تھے، ملاقات کی غرض سے موقع پر موجود رہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی۔
علیمہ خان نے احتجاج کے دوران کہا کہ وہ گرفتاری یا واٹر کینن کے استعمال کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں گی اور پارٹی قیادت کی محدود موجودگی پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔
پولیس نے مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر ہونے کے لیے وقت دیا اور مذاکرات کیے، تاہم مقررہ مہلت کے بعد واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس سے احتجاجی مجمع منتشر ہونا شروع ہو گیا۔ اس دوران بعض کارکنوں نے خواتین کو گھیرے میں لے کر بچانے کی کوشش کی۔
کارروائی کے بعد بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جنہیں ویمن پولیس کی موجودگی میں موبائل وین کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔
پولیس کارروائی کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر حالات معمول پر آ گئے، تاہم بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں سمیت کسی بھی رہنما کی ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری جانب، پارٹی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے اور ملاقات ان کا قانونی حق ہے۔

Leave a reply