اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی، پس پردہ سیاسی مشاورت کے دعوے سامنے آ گئے

0
63
اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی، پس پردہ سیاسی مشاورت کے دعوے سامنے آ گئے

قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیے جانے کے بعد سیاسی منظرنامے میں نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ اس تقرری کے حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پس منظر میں اعلیٰ سطحی سیاسی مشاورت شامل رہی ہے۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے براہ راست رابطہ کیا، جس کے بعد مشاورت کے عمل سے گزر کر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے رائے دی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں ایک وسیع تر میثاقِ جمہوریت کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مکالمہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے خوش آئند ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے بھی محمود خان اچکزئی کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی مشکل سیاسی ادوار میں ان کے اتحادی رہے ہیں اور نواز شریف بھی ان کے بارے میں اچھا تاثر رکھتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات قرینِ قیاس نہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اس اہم تقرری سے قبل پارٹی قیادت یا متعلقہ سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تقرری کے بعد آنے والے دنوں میں سیاسی ہم آہنگی اور نئے اتحادوں کے امکانات پر بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔

Leave a reply