
لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی عدالت ون راولپنڈی سے کیسز دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست پر ججز تعینات کرنے والے حکومت کمیٹی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے کیس کی سماعت کی ،،،دوران سماوات ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحٰق نے موقف اپنایا کہ جس رپورٹ کا آپ نے حکم دیا تھا وہ تیار ہے
،،،حکومت نے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے جان بوجھ کر تاخیر نہیں کی ،،،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس کیے کہ پانچ ماہ سے انسداد دہشتگردی کی عدالتیں خالی ہیں ،بندے بغیر ٹرائل کے جیل میں پڑے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ پڑے رہیں ،،،مزید کہا کہ ہمارے نامزد کئے ہوئے ججز آپ کو پسند نہیں ،،،میں وزیر اعلیٰ کے پاس چلا جاتا ہوں ان سے بات کرلیتا ہوں
،،،چیف جسٹس نے کہا کہ کل آپ کمیٹی کو یہاں بلانا سے مشاورت کرلیں اوپن کورٹ میں مشاورت ہونی چاہیے ،،،ہماری کوئی خواہش نہیں کہ وزیر اعلیٰ صاحبہ کو تکلیف دیں ،،، مگر کامبینہ کی سربراہی وزیر اعلیٰ کرتی ہیں ان کو بھی ذمہ داری ہے تاہم عدالت نے ججز تعینات کرنے والے حکومتی کمیٹی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا









