
فلسطین میں جاری ظلم و ستم کے خلاف چنئی میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسے اور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں تامل ناڈو کی مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس مظاہرے میں معروف فلمی اداکار ستھیاراج، پراکاش راج اور ہدایتکار ویتری ماران کی شرکت نے مظاہرے کو نمایاں بنا دیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اداکار پراکاش راج نے کہا کہ یہ احتجاج انسانیت کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر ناانصافی کے خلاف بولنا سیاست ہے، تو ہاں، ہم سیاست کریں گے، اور کرتے رہیں گے۔” انہوں نے اپنی تقریر میں دو اثرانگیز نظمیں بھی سنائیں جن میں جنگ، خاموشی اور ظلم پر گہری چوٹ کی گئی۔
پراکاش راج نے امریکا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے موجودہ حالات کی ذمہ داری صرف اسرائیل پر نہیں، بلکہ امریکا اور مودی حکومت کی خاموشی بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے۔
اداکار ستھیاراج نے فلسطین پر جاری بمباری کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے کہا، “رہائشی علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے کیسے جائز ہو سکتے ہیں؟” انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے قتل و غارت گری کو روکے۔
اپنے خطاب میں ستھیاراج نے کہا کہ اگرچہ بعض افراد سوال اٹھاتے ہیں کہ چنئی میں احتجاج کا کیا فائدہ، لیکن موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ آواز عالمی سطح پر گونج سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکاروں پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے معاملات پر خاموش نہ رہیں۔
ہدایتکار ویتری ماران نے فلسطین میں ہونے والے مظالم کو “منصوبہ بند نسل کشی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صرف مکانات ہی نہیں، بلکہ اسکول، اسپتال اور زیتون کے باغات بھی نشانہ بنائے جا رہے ہیں، جو وہاں کے لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔
یہ احتجاجی مظاہرہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانیت کے لیے آواز اٹھانے کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی، اور چنئی کی سرزمین نے ایک بار پھر انصاف کی حمایت میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔









