“امن کا نوبیل انعام—ٹرمپ کے دروازے سے کیوں لوٹ گیا؟”

0
135
"امن کا نوبیل انعام—ٹرمپ کے دروازے سے کیوں لوٹ گیا؟"

نوبیل امن انعام 2025 وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو دے دیا گیا ہے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق انہیں یہ اعزاز ملک میں جمہوریت کے فروغ اور آمریت کے خلاف پُرامن جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا۔

نارویجن نوبیل کمیٹی نے کہا کہ ماریا کورینا مچاڈو کی کاوشیں وینزویلا میں جمہوری اصولوں کے قیام اور شہری آزادیوں کی بحالی کے لیے اہم ثابت ہوئیں۔ ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاسی استحکام کے لیے عدم تشدد پر مبنی مؤقف اپنایا۔

واضح رہے کہ نوبیل امن انعام ہر سال ایسے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے جو دنیا میں امن، انسانی حقوق، اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے نمایاں خدمات انجام دے۔

نوبیل انعامات کا آغاز 1901 میں ہوا، جو سویڈن کے سائنسدان الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت دیے جاتے ہیں۔ الفریڈ نوبیل ڈائنامائٹ کے موجد تھے اور انہوں نے اپنی تمام دولت ایک فنڈ میں وقف کر دی تھی تاکہ دنیا بھر میں علم، ادب، طب، کیمیا، طبیعیات اور امن کے لیے کام کرنے والوں کو ہر سال انعام دیا جا سکے۔

ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی امن انعام کے خواہشمند رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں کئی بین الاقوامی تنازعات کے خاتمے کا دعویٰ کیا، جن میں متعدد جنگوں کو رکوانا شامل تھا۔ ٹرمپ کے حامی ممالک میں پاکستان، اسرائیل، آرمینیا، کمبوڈیا اور آذربائیجان شامل رہے جنہوں نے ان کی نامزدگی کی حمایت بھی کی۔ تاہم، اس کے باوجود وہ نوبیل انعام حاصل نہ کر سکے۔

Leave a reply