
چین پر نئی امریکی تجارتی پابندیوں اور 100 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو گئی، جس کا براہِ راست اثر کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بھی دیکھنے میں آیا۔ چند ہی گھنٹوں میں تقریباً 19 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے اپنی قدر کھو بیٹھے۔
ڈیجیٹل کرنسیوں کا ڈیٹا فراہم کرنے والے معروف پلیٹ فارم کوئن گلاس نے اسے “کرپٹو مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا لیکوئڈیشن واقعہ” قرار دیا ہے، جہاں لاکھوں صارفین نے اپنی کھلی سرمایہ کاری پوزیشنز بند کر دیں اور تیزی سے اپنے فنڈز محفوظ مالیاتی اثاثوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیے۔
اس غیر معمولی گراوٹ کا مرکز بٹ کوائن رہا، جس کی قیمت میں 12 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ چند روز قبل بٹ کوائن $125,000 کی ریکارڈ سطح پر پہنچا تھا، تاہم اچانک مندی کے باعث یہ $113,000 سے نیچے جا گرا۔ اسی طرح، دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریم بھی بڑے پیمانے پر لیکوئڈیشن کا شکار ہوئی۔
سرمایہ کاروں نے ممکنہ تجارتی جنگ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کرپٹو اثاثوں سے سرمایہ نکال کر اسٹیبل کوئنز، سونا، اور امریکی ٹریژریز جیسے محفوظ اثاثوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔ اس رجحان کے باعث ان روایتی اثاثوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس بحران کے دوران دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج بائنینس (Binance) بھی صارفین کی تنقید کی زد میں آ گیا، جہاں متعدد افراد نے اکاؤنٹس منجمد ہونے، آرڈرز فیل ہونے، اور کرنسیز کی قیمتوں میں اچانک صفر کے قریب گرنے کی شکایات درج کرائیں۔
یہ صورتحال صرف کرپٹو مارکیٹ تک محدود نہیں رہی۔ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹس، تیل اور اجناس کی قیمتیں بھی دباؤ کا شکار ہو گئیں، جبکہ سرمایہ کاروں کا رجحان تیزی سے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔









