امریکہ میں 2026 کے لیے پناہ گزینوں کی حد میں تاریخی کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں صرف 7,500 افراد کو امریکہ میں پناہ گزین کے طور پر داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ تعداد 1980 کے “ریفیوجی ایکٹ” کے بعد سب سے کم ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت امریکی قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے امیگریشن کی سطح کم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افریقیوں کو نسل کشی کے خطرات لاحق ہیں، لہٰذا ان افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
حالیہ صورتحال کے مطابق امریکہ کا سالانہ ریفیوجی کوٹہ 125,000 ہے، لیکن نئی پالیسی کے تحت یہ تعداد صرف 7,500 تک محدود کر دی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق پناہ گزینوں کی سیکیورٹی جانچ سخت کر دی جائے گی، اور داخلے سے پہلے محکمہ خارجہ اور محکمہ داخلہ کی منظوری ضروری ہوگی۔
جون 2025 میں صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر بھی جاری کیا تھا جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کی داخلے کی شرائط میں تبدیلی کی گئی۔ اس آرڈر کے تحت وہ افراد جن کا “سیکیورٹی پروفائل غیر مطمئن” ہو، انہیں امریکہ میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی شدید تنقید کی ہے۔ نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ یہ اقدام رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کے مترادف ہے اور امریکہ کی امیگریشن پالیسی کو پچاس سال پیچھے لے جا سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پالیسی صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ان کے ووٹ بینک کو بھی متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، امریکہ کے بعض سینئر حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کی عالمی ساکھ اور انسانی حقوق کے میدان میں قیادت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پالیسی نافذ رہی تو لاکھوں پناہ گزین، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے، امریکہ میں داخلے کے مواقع سے محروم ہو جائیں گے، جبکہ سفید فام جنوبی افریقیوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ عالمی سطح پر تنازع پیدا کر سکتا ہے۔









