امریکا میں ماں کی بروقت گوگل سرچ نے بیٹے کی جان بچا لی

0
119
امریکا میں ماں کی بروقت گوگل سرچ نے بیٹے کی جان بچا لی

امریکا میں ایک ماں کی جستجو اور بروقت گوگل سرچ نے اس کے 6 سالہ بیٹے کی زندگی بچا لی۔ یہ حیرت انگیز واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ڈاکٹروں نے بچے کی حالت انتہائی تشویشناک قرار دے کر زندگی کی امید تقریبا ختم کر دی تھی۔

یہ واقعہ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اپریل میں پیش آیا، جب وِٹن ڈینیئل نامی بچہ اچانک سر چکرانے، شدید سر درد اور بے ہوش ہونے کی حالت میں اسپتال پہنچا۔ ابتدائی طور پر ڈاکٹروں نے اسے معمولی فلو (زکام) کا کیس قرار دیا، مگر چند گھنٹوں بعد بچہ نہ بول سکا، نہ چل سکا، اور سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنے لگا۔

اس کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو بہت نازک قرار دیا اور کہا کہ اگر بچہ زندہ بچ گیا، تو ساری زندگی وہ ویل چیئر اور وینٹی لیٹر پر گزارے گا۔ اس وقت، جب تمام امیدیں ختم ہوتی نظر آرہی تھیں، وِٹن کی والدہ، کیسی ڈینیئل، نے گوگل پر سرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کیسی کو گوگل پر ڈاکٹر جیکس مورکوس کا مضمون ملا، جو دماغ کی نایاب بیماری کیورنس مالفارمیشن کا علاج کرنے میں ماہر تھے۔ یہ بیماری دماغ میں خون کی غیر معمولی رگوں کی موجودگی کی وجہ سے فالج یا خون بہنے کا باعث بن سکتی ہے، اور یہ بیماری تقریباً ہر 500 افراد میں سے ایک کو متاثر کرتی ہے۔

کیسی نے فوراً ڈاکٹر مورکوس سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر نے نہ صرف فوری طور پر جواب دیا بلکہ وِٹن کو ہُوسٹن منتقل کرنے کا انتظام بھی کیا۔ وہاں ڈاکٹر مورکوس اور ماہر اطفال ڈاکٹر منیش شاہ نے مشترکہ طور پر ایک 4 گھنٹے طویل پیچیدہ سرجری کی جو مکمل طور پر کامیاب رہی۔

آپریشن کے بعد چند گھنٹوں میں ہی وِٹن ہوش میں آ گیا، اس نے خود سانس لینا شروع کیا اور آہستہ آہستہ دوبارہ بولنے اور چلنے لگا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وِٹن اب بتدریج صحت یاب ہو رہا ہے۔

کیسی ڈینیئل نے کہا کہ اگر وہ گوگل پر تحقیق نہ کرتیں، تو شاید آج ان کا بیٹا زندہ نہ ہوتا۔ انہوں نے تمام والدین کو نصیحت کی کہ وہ کبھی بھی حالات سے ہمت نہ ہاریں اور صحیح معلومات تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں، کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹی سی جستجو بھی کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

Leave a reply