امریکا میں رواں سال ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ، ہزاروں طلبہ بھی متاثر

0
35
امریکا میں رواں سال ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ، ہزاروں طلبہ بھی متاثر

امریکا نے رواں سال اب تک ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جن میں ہزاروں طلبہ اور ورک ویزا رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق منسوخ کیے گئے ویزوں میں تقریباً 8 ہزار تعلیمی ویزے اور 2 ہزار 500 ایسے اجازت نامے شامل ہیں جو قانونی یا مجرمانہ خلاف ورزیوں سے منسلک افراد کو جاری کیے گئے تھے۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں اور ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی جن کے خلاف گرفتاری، سزا یا امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے شواہد موجود ہوں۔ پیر کے روز محکمہ خارجہ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
یہ پیش رفت امیگریشن پالیسیوں میں سختی کے تسلسل کا حصہ ہے، جس کے تحت ویزا ہولڈرز کی امریکا میں آمد کے بعد بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ منسوخ ہونے والے ویزوں کا تعلق مختلف زمروں سے ہے، جن میں سیاحتی، تعلیمی، ہنرمند ورک ویزے اور دیگر نان امیگرنٹ کیٹیگریز شامل ہیں۔
بھارت، جو امریکا کے لیے ویزا حاصل کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، اس پالیسی سے نمایاں طور پر متاثر ہوا ہے۔ امریکی سفارتی حکام کے مطابق بھارت کے شہریوں کو مسلسل دوسرے سال ایک ملین سے زائد نان امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے، تاہم 2025 میں بھارتی طلبہ کے لیے ویزا منظوری کی شرح میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سخت اسکریننگ، طویل انٹرویوز اور جانچ کے مزید سخت معیار کے باعث طلبہ ویزوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح ایچ ون بی جیسے ورک ویزوں پر موجود بھارتی ماہرین کو بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جب کہ نئی ایچ ون بی درخواستوں پر ممکنہ طور پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جسے عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ویزا منسوخی کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ سفارتی سطح پر ویزا امور اٹھائے جا چکے ہیں۔

Leave a reply