
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالی گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکینِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 446 منتخب نمائندوں نے تاحال اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔ فہرست کے مطابق 26 سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے 125 ارکان نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔
صوبائی اسمبلیوں کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو پنجاب اسمبلی کے 159 اور سندھ اسمبلی کے 62 ارکان نے مالی تفصیلات جمع نہیں کروائیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی کے 48 اور بلوچستان اسمبلی کے 26 ارکان بھی گوشوارے جمع کرانے میں ناکام رہے ہیں۔
جن نمایاں شخصیات کے نام فہرست میں شامل ہیں، ان میں سینیٹر طلحہ محمود، فیصل سلیم، قدوس بزنجو اور ایمل ولی شامل ہیں۔ قومی و صوبائی سطح پر مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، حنا بٹ اور سلمہ بٹ کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
اس کے علاوہ سکندر حیات، فرحت عباس اور جاوید کوثر کا شمار بھی ان اراکین میں ہوتا ہے جنہوں نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔
سندھ اسمبلی سے قائم علی شاہ، شرجیل انعام میمن اور سعید غنی جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے شفیع جان، اورنگزیب خان اور زر عالم خان بھی مالی گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مقررہ مدت میں گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔









