“الوداعی تصویر” کے ذریعے حماس کا اسرائیل کو سخت پیغام

0
99
"الوداعی تصویر" کے ذریعے حماس کا اسرائیل کو سخت پیغام

فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز نے ایک نئی تصویر جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ زیرِ حراست اسرائیلی قیدیوں کی “الوداعی تصویر” ہے۔ جاری کی گئی تصویر میں تقریباً 48 قیدیوں کے چہروں کو دکھایا گیا ہے، جن میں مبینہ طور پر کچھ ہلاک اور کچھ زندہ افراد شامل ہیں۔

اس تصویر کے ساتھ ایک پیغام بھی شامل تھا جو براہِ راست اسرائیلی قیادت کے نام تھا۔ پیغام میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوجی سربراہ ایال زامیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ سٹی پر حملوں کی موجودہ لہر ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

القسام بریگیڈز نے تصویر میں موجود تمام قیدیوں کو “رون آراد” کا لیبل دیا ہے، جو 1986 میں لبنان میں لاپتہ ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی افسر کی طرف اشارہ ہے۔ رون آراد کا معاملہ اسرائیل میں آج بھی حساس موضوع سمجھا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ سٹی میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ انہوں نے زیر زمین سرنگوں اور مشتبہ عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں بارودی مواد موجود تھا۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق، حالیہ کارروائیوں میں کم از کم 60 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی قیدی مختلف مقامات پر موجود ہیں اور جاری بمباری ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ قبل ازیں، حماس کی جانب سے جاری کی گئی کچھ ویڈیوز میں قیدیوں کو خراب صحت کی حالت میں، اور ایک قیدی کو مبینہ طور پر اپنی قبر کھودتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جنہیں کئی عالمی حلقے نفسیاتی دباؤ کی کوشش قرار دے چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل میں قیدیوں کی رہائی کے حق میں عوامی مظاہروں کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کئی شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

Leave a reply