افغانستان سے دراندازی کی صورت میں قطر و ترکیہ ضامن ہوں گے

0
124
افغانستان سے دراندازی کی صورت میں قطر و ترکیہ ضامن ہوں گے

استنبول میں جاری پاک۔افغان مذاکرات میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی بیرونی دباؤ کے بغیر افغانستان سے مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ہے، کیونکہ خطے میں پائیدارامن دونوں ممالک کےمفادمیں ہے۔

وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ پاکستان مذاکرات میں شفافیت کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ تمام نکات تحریری معاہدے کا حصہ بنیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دراندازی یا خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے ضامن قطر اور ترکیہ ہوں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جن کی بنیاد اعتماد، امن اور باہمی تعاون پر ہو۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان نے مذاکرات کے دوران سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں، جنہیں ثالثوں نے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق قرار دیا ہے۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں افغان وفد کے ساتھ ہر نکتے پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق، مذاکرات کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ اور خطے میں دیرپا امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اطلاعات پروپیگنڈا کے طور پر پھیلائی جا رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اس عمل کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔

Leave a reply