اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کی لاء کی ڈگری جعلی

0
187
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کی لاء کی ڈگری جعلی

اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر بطور اعتراض کیس سماعت

چیف جسٹس عامر فاروق نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی کو وارنٹو رٹ درخواست پر بطور اعتراض کیس سماعت کی
رجسٹرار آفس نے متاثرہ فریق ہونے اور جوڈیشل کمیشن کو فریق بنانے کے 2 اعتراضات لگائے ہیں، چیف جسٹس
متاثرہ فریق والا اعتراض تو درست نہیں لیکن آپ نے جوڈیشل کمیشن کو کیوں فریق بنایا ہے؟ چیف جسٹس

فریق نمبر جسٹس طارق محمود جہانگیری کے علاوہ تمام فریقین ترتیبی مدعا علیہ ہیں، میاں دائود ایڈووکیٹ

ترتیبی مدعا علیہان کو ممکنہ انکوائری کیلئے صرف ریکارڈ کی طلبی کی خاطر فریق بنایا گیا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ

اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کے اپنے بھی 2 سوالات ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق

جج کیخلاف کو وارنٹو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر ہر سوال کا جواب دوں گا، میاں دائود ایڈووکیٹ

پہلا سوال یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کیخلاف کو وارنٹو رٹ درخواست کیسے قابل سماعت ہے، چیف جسٹس عامر فاروق

سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے ملک اسد کیس میں طے کردیا کہ ہائیکورٹ کے جج کیخلاف کو وارنٹو درخواست قابل سماعت ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ

سپریم کورٹ کے فیصلے کا پیراگراف 77 اور 79 اس عدالت کے سوال کا جواب دیتا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ

دوسرا سوال یہ کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی شکل میں متبادل فورم موجود ہو تو کیا کو وارنٹو درخواست دائر ہو سکتی ہے؟ چیف جسٹس عامر فاروق

بالکل ہو سکتی ہے، یہ نقطہ بھی سپریم کورٹ کے اسی فیصلے ملک اسد علی کیس میں طے کر دیا گیا، میاں دائود ایڈووکیٹ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف 81 میں قرار دیا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سہولت ہونے کے باوجود بھی ہائیکورٹ میں جج کیخلاف رٹ آف کو وارنٹو ہو سکتی ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
سپریم کورٹ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو رٹ آف کو وارنٹو کا متبادل فورم نہیں کہا جا سکتا، میاں دائود ایڈووکیٹ
سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر التواء ہونے کے باوجود ہائیکورٹ میں جج کیخلاف رٹ آف کو وارنٹو قابل سماعت ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
*عدالت نے میاں دائود ایڈووکیٹ کے دلائل کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا*

جسٹس طارق محمود جہانگیری کیخلاف میاں دائود ایڈووکیٹ نے آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے
جسٹس جہانگیری کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رٹ آف کو وارانٹو کے ذریعے چیلنج کی گئی ہے
رٹ آف کو وارنٹو میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ کے 1998 کے جسٹس سجاد علی شاہ کیس کو مرکزی قانونی بنیاد بنایا گیا ہے

جسٹس جہانگیری کی وکیل بننے کی بنیادی قابلیت ایل ایل بی کی ڈگری غلط ہے، درخواستگزار میاں دائود ایڈووکیٹ
غلط ڈگری کی بنیاد پر جسٹس جہانگیری کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت بھی دائر ہو چکی ہے، درخواستگزار میاں دائود ایڈووکیٹ
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے مطابق انہوں نے یونیورسٹی آف کراچی سے ایل یل بی کیا، درخواستگزار میاں دائود ایڈووکیٹ
جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی پارٹ ون کو منسوب انرولمنٹ نمبر AIL 5968 امتیاز احمد نامی شہری کا ہے، درخواستگزار میاں دائود

پارٹ ون کی مارک شیٹ پر نام طارق جہانگیری ولد محمد اکرم لکھا ہوا ہے، درخواستگزار میاں دائود ایڈووکیٹ

یونیورسٹی کی ٹیبولیشن شیٹ پر درج انرولمنٹ نمبر 5968 بھی امتیاز احمد کی بجائے طارق جہانگیر کو منسوب ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ

پارٹ ون اور پارٹ ٹو پر کالج کا نام گورنمنٹ اسلامیہ کالج لکھا ہوا ہے، درخواستگزار میاں دائود ایڈووکیٹ
جسٹس طارق محمود جہانگیری کو منسوب پارٹ ٹو پر انرولنمنٹ نمبر AIL 7124 لکھا ہوا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
پارٹ ٹو کی مارک شیٹ پر نام طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم لکھا ہوا ہے، میاں دائود
کالج پرنسپل کے لیٹر کے مطابق طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم 1984 تا 1991 تک کالج کا طالب علم ہی نہیں رہا، میاں دائود ایڈووکیٹ

یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کے مطابق ایک انرولمنٹ نمبر مکمل ڈگری کیلئے دو افراد کو الاٹ ہو ہی نہیں سکتا، میاں دائود ایڈووکیٹ

سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے 1998 میں جسٹس سجاد علی شاہ کیس میں ہائیکورٹ کے جج کو پبلک آفس ہولڈر اور پرسن قرار دے چکا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ رٹ آف کو وارنٹو میں کسی بھی شخص کیخلاف انکوائری کی پابند ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
آئین کا آرٹیکل 199 رٹ آف کو وارنٹو میں ہائیکورٹ کو انکوائری کرانے کا اختیار دیتا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ

سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر التواء ہو تو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کسی جج کی ذاتی حیثیت میں انکوائری کر سکتی ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس جہانگیری کیخلاف آئینی درخواست قابل سماعت ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
جسٹس طارق جہانگیری وکیل بننے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے لیکن وہ جج بن گئے، میاں دائود ایڈووکیٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کرے، میاں دائود ایڈووکیٹ کی استدعا

Leave a reply