اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی

0
147
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے کم عمری کی شادی سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 15 سالہ مدیحہ بی بی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت کے مطابق، لڑکی نے بارہا اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا۔

فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح جائز ہے، تاہم موجودہ قانون یعنی “اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025” کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا قابل سزا جرم ہے۔

مدیحہ بی بی کے نکاح نامے میں عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی، لیکن نادرا کے ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی اصل عمر 15 سال ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت کو سفارش کی کہ نادرا کا نظام اس طرح اپ ڈیٹ کیا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔ اس کے علاوہ نکاح رجسٹراروں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر افراد کا نکاح نہ پڑھائیں۔

جسٹس محمد اعظم خان کی سربراہی میں جاری کیے گئے اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ قانون اور شریعت کے درمیان ہم آہنگی کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a reply